تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمْقَصَمْنَا ﴾”اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں۔“ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنْقَ٘رْیَةٍ ﴾”بستیاں “ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنْشَاْنَابَعْدَهَاقَوْمًااٰخَرِیْنَ ﴾”اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى محذِّراً لهؤلاء الظَّالمين المكذِّبين للرسول بما فعل بالأمم المكذِّبة لغيره من الرسل: {وكم قَصَمْنا} أي: أهلكنا بعذابٍ مستأصل {من قريةٍ}: تَلِفَتْ عن آخرها، {وأنشأنا بعدَها قوماً آخرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔