تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 11

وَ کَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ کَانَتۡ ظَالِمَۃً وَّ اَنۡشَاۡنَا بَعۡدَہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۱﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے توڑ کر رکھ دیں جو ظالم تھیں اور ان کے بعد اور لوگ نئے پیدا کر دیے۔ En
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے
En
اور بہت سی بستیاں ہم نے تباه کر دیں جو ﻇالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمْ قَصَمْنَا اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں۔ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنْ قَ٘رْیَةٍ بستیاں جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى محذِّراً لهؤلاء الظَّالمين المكذِّبين للرسول بما فعل بالأمم المكذِّبة لغيره من الرسل: {وكم قَصَمْنا} أي: أهلكنا بعذابٍ مستأصل {من قريةٍ}: تَلِفَتْ عن آخرها، {وأنشأنا بعدَها قوماً آخرين}.