ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 10

لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے
En
یقیناً ہم نے تمہاری جانب کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارے لئے ذکر ہے، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا …:} اس آیت میں کفار کی ان تمام پریشان کن باتوں کا اکٹھا جواب ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے متعلق کہتے تھے کہ یہ خوابوں کی پراگندہ باتیں ہیں، یا من گھڑت باتیں ہیں، یا جادو ہے، یا شاعری ہے، تو فرمایا کہ قرآن کا ان میں سے کسی بات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ہم نے تو تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ہی ذکر ہے، تمھارے ہی حالات اور زندگی کے معاملات پر بحث کی گئی ہے اور انھی کے متعلق تمھاری راہنمائی کی گئی ہے۔ اس میں خواب، جادو یا شاعری کی کون سی بات ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں؟ { فِيْهِ ذِكْرُكُمْ } کا ایک معنی یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں یہ کتاب ساری دنیا میں تمھاری ناموری، شہرت اور عز و شرف کا باعث ہے، جیسا کہ دوسری جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «{ وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ [الزخرف: ۴۴] یعنی بے شک یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے عز و شرف کا باعث ہے۔ ذکر کا ایک معنی نصیحت بھی ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ [الذاریات: ۵۵] اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔ تو آیت کا ترجمہ یہ ہو گا بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھاری نصیحت کا سامان ہے۔ آیت میں ذکر کے تینوں معنی بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان میں کوئی باہمی تعارض نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ (لوگو)! ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر [10] ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔
[10] قرآن میں جو کچھ مذکور ہے تمہیں سے تعلق رکھتا ہے:۔
یعنی اس میں کوئی نرالی داستانیں اور عجیب و غریب ملک کے حالات نہیں ہیں بلکہ تم ہی جیسے لوگوں کے حالات مذکور ہیں۔ تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیر بحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت، آغاز اور انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے اچھے اور برے اخلاق کے فرق کو نمایاں کر کے دکھایا جا رہا ہے اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے کہ اگر تم کچھ بھی غور و فکر کرو تو اس میں تمہارے لئے نصیحت اور تمہارا بھلا ہی بھلا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]‏‏‏‏
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44]‏‏‏‏ ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17]‏‏‏‏ ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45]‏‏‏‏ ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے وہ لوگو! جن کی طرف محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمھاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ﴿ فِیْهِ ذِكْرُؔكُمْ یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انھیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا شرف و فخر اور تمھاری سربلندی ہے، تمھاری قدر بڑھے گی اور تمھارا معاملہ عظیم ہو جائے گا۔ ﴿ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمھارا نفع و نقصان ہے؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمھارا ذکر اور جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کا شرف ہے؟ اگر تم میں عقل ہوتی تو تم اسی راستے پر گامزن ہوتے۔
چونکہ تم اسے راستے پر نہیں چلے بلکہ تم نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کی ذلت اور تحقیر ہے اور جس کی منزل تمھارے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی ہے، اس لیے معلوم ہوا کہ تم صحیح معقولات اور راجح آراء سے تہی دامن ہو… جو کچھ واقع ہوا یہ آیت کریمہ اس کا مصداق ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے اہل ایمان نے اس قرآن سے نصیحت پکڑی تو انھیں غلبہ، سربلندی، عظیم شہرت اور بادشاہوں پر سرداری حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص جانتا ہے جیسے اس شخص کے بارے میں معلوم ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے سربلندی حاصل نہیں کی، اس کی راہنمائی قبول نہیں کی اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کیا، اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی، ذلت و رسوائی، گمنامی اور بدبختی ہے۔ پس دنیا و آخرت کی سعادت تک رسائی صرف اس کتاب عظیم کے ذریعے نصیحت پکڑنے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {لقد أنزلنا إليكم}: أيُّها المرسل إليهم محمد بن عبد الله بن عبد المطلب {كتاباً}: جليلاً وقرآناً مبيناً. {فيه ذِكْرُكُم}؛ أي: شرفكم وفخركم وارتفاعكم: إن تذكَّرتم به ما فيه من الأخبار الصَّادقة فاعتقدتمُوها، وامتثَلْتُم ما فيه من الأوامر، واجتنبتم ما فيه من النواهي؛ ارتفع قدرُكم وعظُم أمركم. {أفلا تعقِلونَ}: ما ينفعكم وما يضرُّكم؛ كيف لا تعملون على ما فيه ذكرُكم وشرفُكم في الدنيا والآخرة؟! فلو كان لكم عقلٌ؛ لسلكتُم هذا السبيل، فلما لم تسلكوه وسلكتُم غيره من الطُّرق التي فيها ضَعَتُكم وخِسَّتُكم في الدنيا والآخرة وشقاوتُكم فيهما؛ عُلم أنه ليس لكم معقولٌ صحيحٌ ولا رأيٌ رجيحٌ.

وهذه الآية مصداقها ما وقع؛ فإنَّ المؤمنين بالرسول والذين تذكَّروا بالقرآن من الصحابة فَمَنْ بعدَهم؛ حصل لهم من الرِّفعة والعلوِّ الباهر والصيت العظيم والشرف على الملوك ما هو أمرٌ معلومٌ لكلِّ أحدٍ؛ كما أنه معلومٌ ما حصل لمن لم يَرْفَعْ بهذا القرآن رأساً، ولم يهتدِ به ويتزكَّى به من المقتِ والضَّعَةِ والتَّدْسِيَة والشقاوةِ؛ فلا سبيل إلى سعادة الدُّنيا والآخرة إلاَّ بالتذكُّر بهذا الكتاب.