تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {لقد أنزلنا إليكم}: أيُّها المرسل إليهم محمد بن عبد الله بن عبد المطلب {كتاباً}: جليلاً وقرآناً مبيناً. {فيه ذِكْرُكُم}؛ أي: شرفكم وفخركم وارتفاعكم: إن تذكَّرتم به ما فيه من الأخبار الصَّادقة فاعتقدتمُوها، وامتثَلْتُم ما فيه من الأوامر، واجتنبتم ما فيه من النواهي؛ ارتفع قدرُكم وعظُم أمركم. {أفلا تعقِلونَ}: ما ينفعكم وما يضرُّكم؛ كيف لا تعملون على ما فيه ذكرُكم وشرفُكم في الدنيا والآخرة؟! فلو كان لكم عقلٌ؛ لسلكتُم هذا السبيل، فلما لم تسلكوه وسلكتُم غيره من الطُّرق التي فيها ضَعَتُكم وخِسَّتُكم في الدنيا والآخرة وشقاوتُكم فيهما؛ عُلم أنه ليس لكم معقولٌ صحيحٌ ولا رأيٌ رجيحٌ.
وهذه الآية مصداقها ما وقع؛ فإنَّ المؤمنين بالرسول والذين تذكَّروا بالقرآن من الصحابة فَمَنْ بعدَهم؛ حصل لهم من الرِّفعة والعلوِّ الباهر والصيت العظيم والشرف على الملوك ما هو أمرٌ معلومٌ لكلِّ أحدٍ؛ كما أنه معلومٌ ما حصل لمن لم يَرْفَعْ بهذا القرآن رأساً، ولم يهتدِ به ويتزكَّى به من المقتِ والضَّعَةِ والتَّدْسِيَة والشقاوةِ؛ فلا سبيل إلى سعادة الدُّنيا والآخرة إلاَّ بالتذكُّر بهذا الكتاب.