کہا پس جا کہ بے شک تیرے لیے زندگی بھر یہ ہے کہ کہتا رہے ’’ایک دوسرے کو چھونا نہیں‘‘ اور بے شک تیرے لیے ایک اور بھی وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی تجھ سے ہرگز نہ کی جائے گی اور اپنے معبود کو دیکھ جس پر تومجاور بنا رہا، یقینا ہم اسے ضرور اچھی طرح جلائیں گے، پھر یقینا اسے ضرور سمندر میں اڑا دیں گے، اڑانا اچھی طرح۔
En
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذْهَبْ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّلَكَفِیالْحَیٰؔوةِاَنْتَقُوْلَلَامِسَاسَ﴾ یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ”مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا“ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔
﴿ وَاِنَّلَكَمَوْعِدًالَّ٘نْتُخْلَفَهٗ﴾”اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔“ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانْ٘ظُ٘رْاِلٰۤىاِلٰهِكَالَّذِیْظَلْتَعَلَیْهِعَاكِفًا﴾”اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔“ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ثُمَّلَنَنْسِفَنَّهٗفِیالْیَمِّنَسْفًا ﴾”ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔“ اور موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال له موسى: اذهبْ؛ أي: تباعَدْ عنِّي واستأخِرْ منِّي. {فإنَّ لك في الحياة أن تقولَ لا مِساسَ}؛ أي: تعاقَبُ في الحياة عقوبةً، لا يدنو منك أحدٌ ولا يَمَسُّك أحدٌ، حتى إنَّ من أراد القرب منك؛ قلت له: لا تَمَسَّني ولا تَقْرَبْ مني؛ عقوبةً على ذلك؛ حيث مسَّ ما لم يمسَّه غيره وأجرى ما لم يجرِهِ أحدٌ. {وإنَّ لك موعداً لن تُخْلَفَهُ}: فتُجازى بعملك من خيرٍ وشرٍّ. {وانظُرْ إلى إلهك الذي ظَلْتَ عليه عاكفاً}؛ أي: العجل، {لَنُحَرِّقَنَّه ثم لَنَنْسِفَنَّه في اليمِّ نَسْفاً}: ففعل موسى ذلك؛ فلو كان إلهاً؛ لامتنع ممَّن يريده بأذى ويسعى له بالإتلاف. وكان قد أشْرِبَ العجلُ في قلوب بني إسرائيل، فأراد موسى عليه السلام إتلافَه وهم ينظُرون على وجهٍ لا تمكن إعادتُه؛ بالإحراق والسَّحْق وذَرْيِهِ في اليمِّ ونسفِهِ؛ ليزول ما في قلوبهم من حبِّه كما زال شخصه، ولأنَّ في إبقائه محنةً؛ لأن في النفوس أقوى داعٍ إلى الباطل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔