تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ: } مراد موت، قبر اور آخرت کا عذاب ہے۔
➌ {وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيْ …: ” ظَلْتَ “ ”ظَلَّ يَظَلُّ“} (ع) سے واحد مذکر حاضر ہے، جو اصل میں {”ظَلِلْتَ“} تھا (پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ)، بولنے میں دشواری ختم کرنے کے لیے پہلا لام حذف کر دیا گیا۔ وزن {”فَعِلْتَ“ } کے بجائے {”فَلْتَ“} رہ گیا۔ {”لَنُحَرِّقَنَّهٗ“} جلانے میں شدت کے اظہار کے لیے باب تفعیل استعمال ہوا ہے۔ {”نَسَفَ يَنْسِفُ نَسْفًا“} (ض) اڑانا، بکھیرنا۔ {”الْيَمِّ “} نمکین سمندر اور میٹھے دریا دونوں معنوں میں آتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ سونے یا چاندی کے بچھڑے کو آگ میں جلانے سے وہ دھات اڑانے اور بکھیرنے کے قابل تو نہیں ہوتی بلکہ زیادہ خالص اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، مقصد یہ تھا کہ ہم اسے ذبح کرکے اچھی طرح جلا کر دریا یا سمندر میں اڑا کر بکھیر دیں گے، مگر گوشت پوست کا بچھڑا بننے کی بات بالکل بے اصل ہے۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ہم اسے خوب گرم کریں گے، تاکہ وہ نرم ہو جائے، پھر ریتی کے ساتھ اسے ذرہ ذرہ کر کے دریا میں بکھیر دیں گے، مگر قرآن مجید میں ریتی کا ذکر نہیں۔ اس لیے بعض مفسرین نے فرمایا کہ {”حَرَقَ يَحْرُقُ“} کا معنی پیسنا بھی آتا ہے اور باب تفعیل میں مزید مبالغہ ہو گیا۔ یہ جواب بھی زبردستی پر مبنی ہے، کیونکہ {” تَحْرِيْقٌ “} کا معنی جلانا ہی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے مجھے اس کا بالکل واضح جواب مل گیا، وہ یہ کہ حکیم جس دھات کا چاہتے ہیں کشتہ بنا لیتے ہیں، جو راکھ کی صورت میں اتنا باریک ہو جاتا ہے کہ پھونک سے اڑ جاتا ہے۔ اطباء کو انبیاء کے کمال سے تو کوئی نسبت ہی نہیں، لہٰذا ان کے لیے دھات کو راکھ بنانا کیا مشکل ہے؟
➍ موسیٰ علیہ السلام کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے جو چیز بھی استعمال ہو رہی ہو اسے مسمار کرنا، جلانا اور اس کا نام و نشان مٹا دینا لازم ہے، خواہ وہ کوئی بت ہو یا درخت یا قبر۔ ابوالہیاج الاسدی (علی رضی اللہ عنہ کے داماد) فرماتے ہیں کہ مجھے علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [أَلَا أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهٗ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهٗ] [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹] ”کیا میں تمھیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ وہ یہ ہے کہ کسی مجسمے کو نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو اور کسی اونچی قبر کو نہ چھوڑو جسے برابر نہ کر دو۔“ اللہ کی شان دیکھیے، اونچی قبریں برابر کرنے پر علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا جنھیں تمام قبر پرست اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی کا باعث اہلِ کتاب کی پیروی میں قبر پرستی اور شرک کی دوسری صورتوں میں مبتلا ہونا اور توحید سے منہ موڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اپنی توحید کی طرف پلٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) {” لَنُحَرِّقَنَّهٗ“} اور {” لَنَنْسِفَنَّهٗ “} میں لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ اور پھر {” نَسْفًا “} مفعول مطلق کے ساتھ تاکید کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر صورت اسے جلائیں گے اور ہر صورت دریا میں اڑا کر بکھیریں گے۔ کسی طرح ایسا کرنے سے نہیں ٹلیں گے، خواہ کوئی مقابلے پر آ جائے، یا منت و سماجت کرے، یا اپنے اس معبود کے غیظ و غضب سے ڈراتا رہے، یہ کام ہو کر رہے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[68] یہ تو رہا تیرا انجام اور اب ہم تیرے الٰہ کا جس کا تو دن رات مجاور بن بیٹھا رہتا تھا، یہ حشر کرنے والے ہیں کہ اس سونے اور مٹی کے بت کے ہم پہلے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے پھر ان کو جلا کر راکھ بنا دیں گے۔ اور پھر اس راکھ کو دریا میں پھینک دیں گے تاکہ تجھے اور پیروکاروں سب کو یہ معلوم ہو جائے کہ جو خدا اپنی بھی حفاظت نہیں کر سکتا وہ دوسرے کا کیا سنوار سکتا ہے یا بگاڑ سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال له موسى: اذهبْ؛ أي: تباعَدْ عنِّي واستأخِرْ منِّي. {فإنَّ لك في الحياة أن تقولَ لا مِساسَ}؛ أي: تعاقَبُ في الحياة عقوبةً، لا يدنو منك أحدٌ ولا يَمَسُّك أحدٌ، حتى إنَّ من أراد القرب منك؛ قلت له: لا تَمَسَّني ولا تَقْرَبْ مني؛ عقوبةً على ذلك؛ حيث مسَّ ما لم يمسَّه غيره وأجرى ما لم يجرِهِ أحدٌ. {وإنَّ لك موعداً لن تُخْلَفَهُ}: فتُجازى بعملك من خيرٍ وشرٍّ. {وانظُرْ إلى إلهك الذي ظَلْتَ عليه عاكفاً}؛ أي: العجل، {لَنُحَرِّقَنَّه ثم لَنَنْسِفَنَّه في اليمِّ نَسْفاً}: ففعل موسى ذلك؛ فلو كان إلهاً؛ لامتنع ممَّن يريده بأذى ويسعى له بالإتلاف. وكان قد أشْرِبَ العجلُ في قلوب بني إسرائيل، فأراد موسى عليه السلام إتلافَه وهم ينظُرون على وجهٍ لا تمكن إعادتُه؛ بالإحراق والسَّحْق وذَرْيِهِ في اليمِّ ونسفِهِ؛ ليزول ما في قلوبهم من حبِّه كما زال شخصه، ولأنَّ في إبقائه محنةً؛ لأن في النفوس أقوى داعٍ إلى الباطل.