تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 98

اِنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَسِعَ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ﴿۹۸﴾
تمھارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ En
تمہارا معبود خدا ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے
En
اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ کریم کے سوا کوئی معبود نہیں، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا معبود إلاَّ وجهه الكريم؛ فلا يؤلَّه ولا يُحَبُّ ولا يُرجى ولا يُخاف ولا يُدعى إلاَّ هو؛ لأنَّه الكامل الذي له الأسماء الحسنى والصفات العُلى، المحيط علمه بجميع الأشياء، الذي ما من نعمة بالعباد إلاَّ منه، ولا يدفع السوء إلاَّ هو؛ فلا إله إلاَّ هو، ولا معبود سواه.