تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 89

اَفَلَا یَرَوۡنَ اَلَّا یَرۡجِعُ اِلَیۡہِمۡ قَوۡلًا ۬ۙ وَّ لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ﴿٪۸۹﴾
تو کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ نہ ان کی کسی بات کا جو اب دیتا ہے اور نہ ان کے کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ کسی نفع کا۔ En
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے
En
کیا یہ گمراه لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وه تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا یَرَوْنَکیا وہ نہیں دیکھتے۔ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا یَرْجِـعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من بلادتهم وسخافة عقولهم؛ حيث رأوا هذا الغريب الذي صار له خُوارٌ بعد أن كان جماداً، فظنُّوه إله الأرض والسماوات، أفلا يَرَوْنَ أنَّ العجل لا {يرجِعُ إليهم قولاً}؛ أي: لا يتكلَّم ويراجعهم ويراجعونه، {ولا يملكُ لهم ضرًّا ولا نفعاً}؛ فالعادم للكمال والكلام والفعال لا يستحقُّ أن يُعْبَدَ، وهو أنقصُ من عابديه؛ فإنَّهم يتكلَّمون ويقدِرون على بعض الأشياء من النفع والدفع بإقدارِ الله لهم.