اور بلاشبہ یقینا ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ اے میری قوم! بات یہی ہے کہ اس کے ساتھ تمھاری آزمائش کی گئی ہے اور یقینا تمھارا رب رحمان ہی ہے، سو میرے پیچھے چلو اور میرا حکم مانو۔
En
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
اور ہارون (علیہ السلام) نےاس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمنٰ ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون علیہ السلام نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارون علیہ السلام کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَ٘نْنَّبْرَحَعَلَیْهِعٰكِفِیْنَحَتّٰىیَرْجِـعَاِلَیْنَامُوْسٰؔى ﴾”موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إنَّهم باتَّخاذهم العجل ليسوا معذورينَ فيه؛ فإنَّه وإنْ كانت عَرَضَتْ لهم الشبهةُ في أصل عبادته؛ فإنَّ هارونَ قد نهاهم عنه، وأخبرهم أنه فتنة، وأن ربَّهم الرحمن الذي منه النعم الظاهرة والباطنة، الدافع للنقم، وأنَّه أمرهم أن يتَّبعوه ويعتزلوا العجل، فأبوا وقالوا: {لن نَبْرَحَ عليه عاكفينَ حتَّى يرجِعَ إلينا موسى}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔