(آیت 89){ اَفَلَايَرَوْنَاَلَّايَرْجِعُاِلَيْهِمْقَوْلًا…:} یہ وہی دلیل ہے جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور قوم کے سامنے پیش کی تھی: «{ يٰۤاَبَتِلِمَتَعْبُدُمَالَايَسْمَعُوَلَايُبْصِرُوَلَايُغْنِيْعَنْكَشَيْـًٔا }»[مریم: ۴۲]”اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے۔“موسیٰ علیہ السلام کے پیش کردہ اکثر دلائل وہی ہیں جو ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیے تھے، دیکھیے سورۂ شعراء۔ بنی اسرائیل کی عجائب پرستی دیکھیے کہ دھات کے بنے ہوئے بچھڑے کے بے جان مجسمے کو صرف آواز کی وجہ سے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا مان بیٹھے۔ مجسمہ بھی اس جانور کا جسے تمام جانوروں سے سادہ لوح سمجھا جاتا ہے اور جو خود انسان کا خدمت گار اور اس کی خوراک ہے۔ یہ نہ سوچا کہ اس مجسمے سے تو وہ خود ہزار گنا بااختیار ہیں کہ بول سکتے ہیں، اپنی مرضی سے چل پھر سکتے ہیں اور بقدر استطاعت کچھ نہ کچھ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں، جب کہ بت بچھڑے کا ہو یا انسان کا، بات کرنے، چلنے پھرنے، سننے دیکھنے، ہر چیز سے عاری ہے۔ سورۂ اعراف کی آیات (۱۹۴، ۱۹۵) میں یہ بات نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت و نادنی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی نہیں پتہ چلا کہ یہ بچھڑا کوئی جواب دے سکتا ہے۔ نہ نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہے۔ جب کہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو ہر ایک کی فریاد سننے پر، نفع و نقصان پہنچانے پر اور حاجت برآوری پر قادر ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ نہ تو وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے [62] اور نہ ہی ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔
[62] یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یعنی ان بدبختوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ اگر اس بچھڑے کی سی آواز نکلتی بھی ہے تو وہ کیا ان کے سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ بلکہ وہ تو سنتا بھی نہیں پھر جواب کیا دے گا؟ اور جو چیز نہ سن سکے نہ جواب دے سکے وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے یا سنوار سکتی ہے؟ نیز وہ الٰہ کیسے ہو سکتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَایَرَوْنَ ﴾”کیا وہ نہیں دیکھتے۔“ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّایَرْجِـعُاِلَیْهِمْقَوْلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من بلادتهم وسخافة عقولهم؛ حيث رأوا هذا الغريب الذي صار له خُوارٌ بعد أن كان جماداً، فظنُّوه إله الأرض والسماوات، أفلا يَرَوْنَ أنَّ العجل لا {يرجِعُ إليهم قولاً}؛ أي: لا يتكلَّم ويراجعهم ويراجعونه، {ولا يملكُ لهم ضرًّا ولا نفعاً}؛ فالعادم للكمال والكلام والفعال لا يستحقُّ أن يُعْبَدَ، وهو أنقصُ من عابديه؛ فإنَّهم يتكلَّمون ويقدِرون على بعض الأشياء من النفع والدفع بإقدارِ الله لهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔