تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 84

قَالَ ہُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی ﴿۸۴﴾
کہا وہ یہ میرے نشان قدم پر ہیں اور میں تیری طرف جلدی آگیا اے میرے رب! تاکہ تو خوش ہو جائے۔ En
کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
En
کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: ﴿ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال هم أولاءِ على أثَري}؛ أي: قريباً مني، وسيصلون في أثَري، والذي عَجَّلَني إليك يا ربِّ الطلبُ لقربك والمسارعة في رضاك والشوق إليك.