تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 83

وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾
اور تجھے تیری قوم سے جلد کیا چیزلے آئی اے موسیٰ!؟ En
اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی
En
اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کرکے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰؔى یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كان الله تعالى قد واعَدَ موسى أن يأتِيَهُ لِيُنْزِلَ عليه التوراة ثلاثين ليلةً، فأتمَّها بعشرٍ، فلما تمَّ الميقات؛ بادر موسى عليه السلام إلى الحضور للموعد شوقاً لربِّه وحرصاً على موعوده، فقال الله له: {وما أعْجَلَكَ عن قومك يا موسى}؛ أي: ما الذي قدَّمك عليهم؟ ولِمَ لمْ تصبِرْ حتى تَقْدِمَ أنت وهم؟