تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 82

وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾
اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔ En
اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں
En
ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں۔ ﴿ ثُمَّ اهْتَدٰؔى یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ فالتوبة معروضةٌ، ولو عمل العبد ما عمل من المعاصي، ولهذا قال: {وإنِّي لغفارٌ}؛ أي: كثير المغفرة والرحمة، {لمن تابَ}: من الكفر والبدعة والفسوق، و {آمن}: بالله وملائكته وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، {وعمل صالحاً}: من أعمال القلب والبدن وأقوال اللسان، {ثمَّ اهتدى}؛ أي: سلك الصراط المستقيم، وتابع الرسول الكريم، واقتدى بالدِّين القويم؛ فهذا يغفر الله أوزاره، ويعفو عما تقدَّم من ذنبه وإصراره؛ لأنَّه أتى بالسبب الأكبر للمغفرة والرحمة، بل الأسباب كلُّها منحصرةٌ في هذه الأشياء؛ فإنَّ التوبة تجبُّ ما قبلها، والإيمان والإسلام يهدم ما قبله، والعمل الصالحُ الذي هو الحسناتُ يُذْهِبُ السيئاتِ، وسلوكُ طرق الهداية، بجميع أنواعها، من تعلُّم علم وتدبُّر آية أو حديث، حتى يتبيَّن له معنى من المعاني يهتدي به، ودعوة إلى دين الحقِّ وردِّ بدعة أو كفر أو ضلالة وجهاد وهجرةٍ وغير ذلك، من جزئيَّات الهداية كلها مكفِّرات للذنوب محصِّلات لغاية المطلوب.