(آیت 82){ وَاِنِّيْلَغَفَّارٌلِّمَنْتَابَ …:} نافرمانی اور طغیانی کی وعید کے بعد توبہ کی ترغیب دی۔ معلوم ہوا مغفرت کے لیے چار چیزیں شرط ہیں، ایک توبہ یعنی کفر و شرک اور نافرمانی سے باز آ جانا، دوسری ایمان یعنی اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یوم آخرت اور دوسری ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسری عمل صالح یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھی آخر دم تک سیدھے راستے پر قائم رہنا۔ {”اهْتَدٰى“} سے یہی مراد ہے اور یہی چیز سب سے مشکل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ {”ثُمَّ“} (پھر) کے بعد ذکر فرمایا، جیسا کہ «{ ثُمَّكَانَمِنَالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَتَوَاصَوْابِالصَّبْرِوَتَوَاصَوْابِالْمَرْحَمَةِ }»[البلد: ۱۷] میں ہے۔ گویا یہ آیت سورۂ حم السجدہ کی آیات (۳۰ تا ۳۲) کی ہم معنی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 یعنی مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کے لئے چار چیزیں ضروری ہیں۔ کفر و شرک اور معاصی سے توبہ، ایمان، عمل صالح اور راہ راست پر چلتے رہنا یعنی استقلال حتٰی کہ ایمان ہی پر اسے موت آئے، ورنہ ظاہر بات ہے کہ توبہ و ایمان کے بعد اگر اس نے پھر شرک کا راستہ اختیار کرلیا، حتٰی کہ موت بھی اسے کفر و شرک پر ہی آئے تو مغفرت الٰہی کے بجائے عذاب کا مستحق ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقیناً بہت درگزر کرنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنِّیْلَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں۔ ﴿ ثُمَّاهْتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا؛ فالتوبة معروضةٌ، ولو عمل العبد ما عمل من المعاصي، ولهذا قال: {وإنِّي لغفارٌ}؛ أي: كثير المغفرة والرحمة، {لمن تابَ}: من الكفر والبدعة والفسوق، و {آمن}: بالله وملائكته وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، {وعمل صالحاً}: من أعمال القلب والبدن وأقوال اللسان، {ثمَّ اهتدى}؛ أي: سلك الصراط المستقيم، وتابع الرسول الكريم، واقتدى بالدِّين القويم؛ فهذا يغفر الله أوزاره، ويعفو عما تقدَّم من ذنبه وإصراره؛ لأنَّه أتى بالسبب الأكبر للمغفرة والرحمة، بل الأسباب كلُّها منحصرةٌ في هذه الأشياء؛ فإنَّ التوبة تجبُّ ما قبلها، والإيمان والإسلام يهدم ما قبله، والعمل الصالحُ الذي هو الحسناتُ يُذْهِبُ السيئاتِ، وسلوكُ طرق الهداية، بجميع أنواعها، من تعلُّم علم وتدبُّر آية أو حديث، حتى يتبيَّن له معنى من المعاني يهتدي به، ودعوة إلى دين الحقِّ وردِّ بدعة أو كفر أو ضلالة وجهاد وهجرةٍ وغير ذلك، من جزئيَّات الهداية كلها مكفِّرات للذنوب محصِّلات لغاية المطلوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔