کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں۔
En
موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسی کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں ادھر اُدھر دوڑ رہی ہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ بَلْاَلْقُوْا ﴾”بلکہ تم ہی ڈالو۔“ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَاحِبَالُهُمْوَعِصِیُّهُمْیُخَیَّلُاِلَیْهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں “﴿ مِنْسِحْرِهِمْ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَاتَ٘سْعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال لهم موسى: {بلْ ألقوا}: فألْقَوْا حبالهم وعصيهم؛ {فإذا حبالُهم وعصيُّهم يُخَيَّلُ إليه}؛ أي: إلى موسى {من سحرِهم}: البليغ، {أنَّها تسعى}: [أنها حيات تسعى].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔