تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 66

قَالَ بَلۡ اَلۡقُوۡا ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمۡ وَ عِصِیُّہُمۡ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحۡرِہِمۡ اَنَّہَا تَسۡعٰی ﴿۶۶﴾
کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں۔ En
موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسی کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں ادھر اُدھر دوڑ رہی ہیں
En
جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ بَلْ اَلْقُوْا بلکہ تم ہی ڈالو۔ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ﴿ مِنْ سِحْرِهِمْ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَ٘سْعٰى کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال لهم موسى: {بلْ ألقوا}: فألْقَوْا حبالهم وعصيهم؛ {فإذا حبالُهم وعصيُّهم يُخَيَّلُ إليه}؛ أي: إلى موسى {من سحرِهم}: البليغ، {أنَّها تسعى}: [أنها حيات تسعى].