تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 6

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ مَا تَحۡتَ الثَّرٰی ﴿۶﴾
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو گیلی مٹی کے نیچے ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے
En
جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحْتَ الـثَّ٘رٰى اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{له ما في السمواتِ وما في الأرض وما بينَهما}: من مَلَكٍ وإنسيٍّ وجنيٍّ وحيوانٍ وجمادٍ ونباتٍ، {وما تحتَ الثَّرى}؛ أي: الأرض؛ فالجميع مُلكٌ لله تعالى، عبيدٌ مدبَّرون مسخَّرون تحت قضائه وتدبيره، ليس لهم من المُلك شيء، ولا يملكون لأنفسهم نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً.