تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَهٗمَافِیالسَّمٰوٰتِوَمَافِیالْاَرْضِوَمَابَیْنَهُمَا ﴾”اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔“ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَاتَحْتَالـثَّ٘رٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{له ما في السمواتِ وما في الأرض وما بينَهما}: من مَلَكٍ وإنسيٍّ وجنيٍّ وحيوانٍ وجمادٍ ونباتٍ، {وما تحتَ الثَّرى}؛ أي: الأرض؛ فالجميع مُلكٌ لله تعالى، عبيدٌ مدبَّرون مسخَّرون تحت قضائه وتدبيره، ليس لهم من المُلك شيء، ولا يملكون لأنفسهم نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔