تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنْتَجْهَرْبِالْقَوْلِفَاِنَّهٗیَعْلَمُالسِّرَّ ﴾”اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔“ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخْ٘فٰى ﴾”اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔“ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن تَجْهَرْ بالقول فإنَّه يعلم السرَّ}: الكلام الخفي، {وأخفى}: من السرِّ، الذي في القلب ولم يُنطقْ به، أو السِّر ما خطر على القلب، وأخفى ما لم يخطُر؛ يعلم تعالى أنه يخطُرُ في وقته وعلى صفته. المعنى أنَّ علمه تعالى محيطٌ بجميع الأشياء؛ دقيقِها وجليها؛ خفيِّها وظاهرها؛ فسواء جهرتَ بقولك أو أسررتَه؛ فالكلُّ سواء بالنسبة لعلمه تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔