تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 5

اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی ﴿۵﴾
وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔ En
(یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا
En
جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْ٘عَرْشِ رحمٰن عرش پر جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسْتَوٰى مستوی ہے یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما بين أنه الخالق المدبِّر الآمر الناهي؛ أخبر عن عظمته وكبريائه، فقال: {الرحمن على العرش}: الذي هو أرفع المخلوقات وأعظمُها وأوسعها، {استوى}: استواءً يَليقُ بجلالِهِ ويناسب عظمتَه وجمالَه، فاستوى على العرش، واحتوى على الملك.