تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 58

فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحۡرٍ مِّثۡلِہٖ فَاجۡعَلۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکَ مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُہٗ نَحۡنُ وَ لَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی ﴿۵۸﴾
تو ہم بھی ہر صورت تیرے پاس اس جیسا جادو لائیں گے، پس تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان وعدے کا ایک وقت طے کردے کہ نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو، ایسی جگہ میں جو مساوی ہو۔ En
تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)
En
اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور ﻻئیں گے پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے، کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَلَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًؔى اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلنأتينَّك بسحرٍ}: مثل سحرك، فأمهِلْنا واجعلْ لنا {موعداً لا نخلِفُه نحن ولا أنت مكاناً سُوى}؛ أي: مستوٍ علمنا وعلمك به، أو مكاناً مستوياً معتدلاً لنتمكَّن من رؤية ما فيه.