تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ مَوْعِدُؔكُمْیَوْمُالزِّیْنَةِ ﴾”زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔“ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنْیُّحْشَرَالنَّاسُضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال موسى: {موعدُكم يوم الزينةِ}: وهو عيدُهم الذي يتفرَّغون فيه ويقطعون شواغلهم، {وأن يُحْشَرَ الناس ضُحىً}؛ أي: يُجمعون كلهم في وقت الضُّحى. وإنَّما سأل موسى ذلك لأنَّ يوم الزينة ووقت الضحى منه يحصُلُ منه كثرة الاجتماع ورؤية الأشياء على حقائقها ما لا يحصُل في غيره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔