تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 57

قَالَ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا بِسِحۡرِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۵۷﴾
کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دے اے موسیٰ! En
کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو
En
کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا۔ ﴿ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰ علیہ السلام کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال: {أجئتَنا لِتُخْرِجَنا من أرضنا بسحرِك}: زعم أنَّ هذه الآيات التي أراه إيَّاها موسى سحرٌ وتمويهٌ، المقصود منها إخراجُهم من أرضهم والاستيلاءُ عليها؛ ليكون كلامه مؤثراً في قلوب قومه؛ فإنَّ الطِّباع تميل إلى أوطانها، ويصعُبُ عليها الخروج منها ومفارقتها، فأخبرهم أنَّ موسى هذا قصده؛ ليبغِضوه ويسعَوْا في محاربته.