تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 56

وَ لَقَدۡ اَرَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا کُلَّہَا فَکَذَّبَ وَ اَبٰی ﴿۵۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے اپنی نشانیاں سب کی سب دکھلائیں، پس اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔ En
اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ تکذیب وانکار ہی کرتا رہا
En
ہم نے اسےاپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه أرى فرعون من الآياتِ والعِبَرِ والقواطع جميعَ أنواعها العيانيَّة والأفقيَّة والنفسيَّة؛ فما استقام ولا ارعوى، وإنَّما كذَّب وتولَّى؛ كذب الخبر وتولَّى عن الأمر والنهي، وجعل الحقَّ باطلاً والباطل حقًّا، وجادل بالباطل ليضلَّ الناس.