تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 55

مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔ En
اسی (زمین) سے ہم تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے
En
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں۔
۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔
۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ كرم الأرض وحسنَ شكرِها لما يُنْزِلُه الله عليها من المطر، وأنَّها بإذن ربِّها تُخرج النبات المختلف الأنواع؛ أخبر أنَّه خَلَقَنا منها، وفيها يعيدُنا إذا متنا فَدُفِنَّا فيها، ومنها يخرِجُنا {تَارةً أُخْرى}؛ فكما أوجدنا منها من العدم، وقد علمنا ذلك وتحقَّقناه؛ فسيعيدُنا بالبعث منها بعد موتنا؛ ليجازينا بأعمالنا التي عملناها عليها. وهذان دليلان على الإعادة عقليَّان واضحان: إخراجُ النبات من الأرض بعد موتها، وإخراجُ المكلَّفين منها في إيجادهم.