تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَالَهُالْخَلْقُوَالْاَمْرُ ﴾ (الاعراف:7؍54) ”آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔“ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُالَّذِیْخَلَقَسَبْعَسَمٰوٰتٍوَّمِنَالْاَرْضِمِثْ٘لَهُنَّ١ؕیَتَنَزَّلُالْاَمْرُبَیْنَهُنَّ ﴾ (الطلاق:65؍12) ”اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ جلالة هذا القرآن العظيم، وأنه تنزيلُ خالقِ الأرض والسماوات، المدبِّر لجميع المخلوقات؛ أي: فاقبلوا تنزيلَه بغاية الإذعان والمحبَّة والتسليم، وعظِّموه نهاية التعظيم. وكثيراً ما يقرِنُ بين الخَلْق والأمر؛ كما في هذه الآية وكما في قوله: {ألا لَهُ الخلقُ والأمر}، وفي قوله: {الله الذي خَلَقَ سبعَ سمواتٍ ومن الأرضِ مثلَهُنَّ يتنزَّلُ الأمرُ بينهنَّ}، وذلك أنَّه الخالق الآمر الناهي؛ فكما أنه لا خالق سواه؛ فليس على الخلق إلزامٌ ولا أمرٌ ولا نهيٌ إلاَّ من خالقهم. وأيضاً؛ فإنَّ خلقه للخلق فيه من التدبير القدريِّ الكونيِّ، وأمره فيه التدبير الشرعيُّ الدينيُّ؛ فكما أنَّ الخلق لا يخرُجُ عن الحكمة، فلم يَخْلُقْ شيئاً عبثاً؛ فكذلك لا يأمُرُ ولا ينهى إلاَّ بما هو عدلٌ وحكمةٌ وإحسانٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔