تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَ اَرٰی ﴿۴۶﴾
فرمایا ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ En
خدا نے فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں
En
جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَاَرٰى میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا ہوں۔ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال لا تخافا}: أن يَفْرُطَ عليكما؛ {إنَّني معكما أسمع وأرى}؛ أي: أنتما بحفظي ورعايتي، أسمع قولكما، وأرى جميع أحوالكما؛ فلا تخافا منه. فزال الخوفُ عنهما، واطمأنَّت قلوبُهما بوعد ربِّهما.