تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفۡرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوۡ اَنۡ یَّطۡغٰی ﴿۴۵﴾
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! یقینا ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا، یا کہ حد سے بڑھ جائے گا۔ En
دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے
En
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوْ اَنْ یَّ٘طْغٰى یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالا ربَّنا إنَّنا نخافُ أن يَفْرُطَ علينا}؛ أي: يبادرنا بالعقوبة والإيقاع بنا قبل أن تبلِّغه رسالاتك، ونقيم عليه الحجَّة، {أو أن يَطْغى}؛ أي: يتمرَّد عن الحقِّ، ويطغى بملكه وسلطانه وجندِهِ وأعوانِهِ.