تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 47

فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَ لَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ﴿۴۷﴾
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔ En
(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو
En
تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں۔
(۱) فرعون کو اسلام کی دعوت دیں۔
(۲) شرف کے حامل قبیلہء بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ علیہ السلام ان پر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں۔
﴿ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ فَاَلْ٘قٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ۰۰وَّنَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰ٘ظِرِیْنَ (الاعراف:7؍107،108) موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر سانپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید چمک رہا تھا۔ ﴿ وَالسَّلٰ٘مُ عَلٰى مَنِ اتَّ٘بَعَ الْهُدٰؔى اور سلام ہے اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ یعنی جس نے صراط مستقیم کی پیروی کی اور شرع مبین سے راہ نمائی لی، اسے دنیا و آخرت کی سلامتی حاصل ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فأتياه بهذين الأمرين: دعوتُه إلى الإسلام، وتخليصُ هذا الشعب الشريف بني إسرائيل من قيدِهِ وتعبيدِهِ لهم؛ ليتحرَّروا ويملكوا أمرهم، ويقيم فيهم موسى شرع الّله ودينه. {قد جئناك بآيةٍ}: تدلُّ على صدقِنا، فألقى موسى عصاه؛ فإذا هي ثعبانٌ مبينٌ، ونزع يده فإذا هي بيضاءُ للناظرينَ ... إلى آخر ما ذَكَرَ الله عنهما. {والسلامُ على مَنِ اتَّبَعَ الهدى}؛ أي: من اتَّبع الصراط المستقيم واهتدى بالشرع المُبين؛ حصلت له السلامة في الدُّنيا والآخرة.