تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ وَ السَّمٰوٰتِ الۡعُلٰی ؕ﴿۴﴾
اس کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین کو اور اونچے آسمانوں کو پیدا کیا۔
En
یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے
En
اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4){” تَنْزِيْلًا “} فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے جو {” مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ “} سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْآنُ تَنْزِيْلاً۔“} تنزیل کا معنی تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس کی حکمت کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان کی آیت (۳۲) {” الْعُلٰى “ ”عُلْيَا“} کی جمع ہے جو{ ”أَعْلٰي“} کی مؤنث ہے، جیسے {”كُبْرٰي“ } کی جمع {”كُبَرٌ“} ہے، یعنی یہ قرآن کسی جادوگر، کاہن، شاعر، شیطان، جن، انسان، فرشتے یا کسی بھی مخلوق کا کلام نہیں، بلکہ اس خالق کا نازل کردہ ہے جو صرف تمھارا ہی خالق نہیں بلکہ اس عظیم الشان زمین کا، جس کے اوپر اور ان بے حد بلند و بالا آسمانوں کا، جن کے نیچے تم رہتے ہو، سب کا خالق وہی ہے۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۲۷ تا ۳۳) اس سے اس قرآن کی عظمت سمجھ لو کہ کیا یہ اپنے لانے والے یا اپنے ماننے والوں کے لیے کسی طرح بھی باعث شقاوت ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! بلکہ یہ ان کے لیے سراسر سعادت ہی سعادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُّشَادَّ الدِّيْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِيْنُوْا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ] ”بے شک یہ دین آسان ہے اور کوئی بھی شخص دین میں جب بھی بے جا سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا۔ تو تم سیدھے چلو اور قریب رہو اور (اللہ سے ملنے والے اجر پر) خوش ہو جاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے (میں عبادت) کے ساتھ مددحاصل کرو۔“ [بخاري، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ یہ اس ذات کی طرف سے نازل ہوا جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ﴾ (الاعراف:7؍54) ”آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔“ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْ٘لَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ ﴾ (الطلاق:65؍12) ”اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ جلالة هذا القرآن العظيم، وأنه تنزيلُ خالقِ الأرض والسماوات، المدبِّر لجميع المخلوقات؛ أي: فاقبلوا تنزيلَه بغاية الإذعان والمحبَّة والتسليم، وعظِّموه نهاية التعظيم. وكثيراً ما يقرِنُ بين الخَلْق والأمر؛ كما في هذه الآية وكما في قوله: {ألا لَهُ الخلقُ والأمر}، وفي قوله: {الله الذي خَلَقَ سبعَ سمواتٍ ومن الأرضِ مثلَهُنَّ يتنزَّلُ الأمرُ بينهنَّ}، وذلك أنَّه الخالق الآمر الناهي؛ فكما أنه لا خالق سواه؛ فليس على الخلق إلزامٌ ولا أمرٌ ولا نهيٌ إلاَّ من خالقهم. وأيضاً؛ فإنَّ خلقه للخلق فيه من التدبير القدريِّ الكونيِّ، وأمره فيه التدبير الشرعيُّ الدينيُّ؛ فكما أنَّ الخلق لا يخرُجُ عن الحكمة، فلم يَخْلُقْ شيئاً عبثاً؛ فكذلك لا يأمُرُ ولا ينهى إلاَّ بما هو عدلٌ وحكمةٌ وإحسانٌ.