تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ علیہ السلام نے تن تنہا ہیں، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا: ﴿ رَبِّاشْ٘رَحْلِیْصَدْرِیْ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ فَبِمَارَحْمَةٍمِّنَاللّٰهِلِنْتَلَهُمْ١ۚوَلَوْكُنْتَفَظًّاغَلِیْظَالْقَلْبِلَانْفَضُّوْامِنْحَوْلِكَ﴾ (آل عمران:3؍159) ”یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔“ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ عَلِمَ موسى عليه السلام أنَّه تحمَّل حملاً عظيماً؛ حيث أُرسِلَ إلى هذا الجبار العنيد، الذي ليس له منازعٌ في مصر من الخلق، وموسى عليه السلام وحدَه، وقد جرى منه ما جرى من القتل، فامتثل أمر ربِّه، وتلقَّاه بالانشراح والقَبول، وسأله المعونة وتيسير الأسباب التي هي من تمام الدَّعوة، فقال: {ربِّ اشرحْ لي صدري}؛ أي: وسِّعه وافسحْه لأتحمَّل الأذى القوليَّ والفعليَّ، ولا يتكدَّر قلبي بذلك، ولا يضيق صدري؛ فإنَّ الصدر إذا ضاق؛ لم يصلح صاحبُه لهداية الخلق ودعوتهم؛ قال الله لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فبما رحمةٍ من الله لِنتَ لهم ولو كنتَ فظًّا غليظَ القلب لانفضُّوا من حولِكَ}، وعسى الخلقُ يقبلون الحقَّ مع اللِّين وسَعَة الصدر وانشراحه عليهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔