تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 24

اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿٪۲۴﴾
فرعون کی طرف جا، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔ En
تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے
En
اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔ یعنی وہ، اپنے کفر و فسادمیں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما أوحى الله إلى موسى ونبَّأه وأراه الآيات الباهرات؛ أرسله إلى فرعون ملك مصر، فقال: {اذهبْ إلى فرعون إنَّه طغى}؛ أي: تمرَّد وزاد على الحدِّ في الكفر والفساد والعلوِّ في الأرض والقهر للضعفاء، حتى إنَّه ادَّعى الربوبيَّة والألوهيَّة قبحه الله؛ أي: وطغيانه سبب لهلاكه، ولكنْ من رحمة الله وحكمتِهِ وعدلِهِ أنَّه لا يعذِّب أحداً إلاَّ بعد قيام الحجة بالرسل.