تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 18

قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی ﴿۱۸﴾
کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔ En
انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں
En
جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَیْهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَ٘نَمِیْ یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں۔
(۱) آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔
(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں۔
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰؔى اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں۔ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ علیہ السلام نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال موسى: {هي عصايَ أتوكَّأ عليها وأهشُّ بها على غنمي}: ذكر فيها هاتين المنفعتين؛ منفعة لجنس الآدمي، وهو أنَّه يعتمد عليها في قيامه ومشيه، فيحصُل فيها معونةٌ ومنفعةٌ للبهائم، وهو أنَّه كان يرعى الغنم؛ فإذا رعاها في شجر الخبط ونحوه؛ هشَّ بها؛ أي: ضرب الشجر ليتساقطَ ورقُه فيرعاه الغنم. هذا الخُلُق الحسن من موسى عليه السلام الذي من آثارِهِ حُسْنُ رعاية الحيوان البهيم والإحسان إليه دلَّ على عنايةٍ من الله له واصطفاءٍ وتخصيص تقتضيه رحمةُ الله وحكمتُه. {ولي فيها مآربُ}؛ أي: مقاصد {أخرى}: غير هذين الأمرين.

ومن أدب موسى عليه السلام أنَّ الله لما سأله عمَّا في يمينه، وكان السؤال محتملاً عن السؤال عن عينها أو منفعتها؛ أجابه بعينها ومنفعتها.