تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَاتِلْكَبِیَمِیْنِكَیٰمُوْسٰؔى ﴾”اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما بيَّن الله لموسى أصلَ الإيمان؛ أراد أن يبيِّن له ويريه من آياته ما يطمئنُّ به قلبه، وتقرُّ به عينه، ويقوى إيمانُه بتأييد الله له على عدوِّه، فقال: {وما تلك بيمينِك يا موسى}: هذا مع علمه تعالى، ولكن لزيادة الاهتمام في هذا الموضع؛ أخرج الكلام بطريق الاستفهام.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔