تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَاَلْقِهَایٰمُوْسٰؔىفَاَلْقٰىهَافَاِذَاهِیَحَیَّةٌتَ٘سْعٰى ﴾”اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔“ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال الله له: {ألقها يا موسى. فألقاها فإذا هي حيَّةٌ تسعى}: انقلبت بإذن الله ثعباناً عظيماً، فولَّى موسى هارباً خائفاً ولم يعقبْ.
وفي وصفها بأنها تسعى إزالةٌ لوهم يمكن وجوده، وهو أنْ يُظنَّ أنها تخييلٌ لا حقيقة؛ فكونها تسعى يزيلُ هذا الوهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔