سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کر اور دن کے کناروں میں، تاکہ تو خوش ہو جائے۔
En
پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ
پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أمر الله رسولَه بالصبر على أذيَّتِهم بالقول، وأمره أن يتعوَّض عن ذلك وليستعين عليه بالتسبيح {بحمدِ} ربِّه في هذه الأوقات الفاضلة؛ {قبلَ طلوعِ الشمس وقبل غروبها}، وفي أطراف النهار أوله وآخره؛ عموم بعد خصوص، وأوقات {الليلِ} وساعاته، لعلَّك إنْ فعلتَ ذلك ترضى بما يعطيك ربُّك من الثواب العاجل والآجل، وليطمئنَّ قلبُك، وتَقَرَّ عينُك بعبادة ربِّك، وتتسلَّى بها عن أذيَّتِهِم؛ فيخفَّ حينئذٍ عليك الصبر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔