تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 129

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔ En
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
En
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه تسليةٌ للرسول وتصبيرٌ له عن المبادرة إلى إهلاك المكذِّبين المعرضين، وأنَّ كفرَهم وتكذيبَهم سببٌ صالحٌ لحلول العذاب بهم ولزومِهِ لهم؛ لأنَّ الله جَعَلَ العقوبات سبباً وناشئاً عن الذُّنوب ملازماً لها، وهؤلاء قد أتَوْا بالسبب، ولكنَّ الذي أخَّره عنهم كلمةُ ربِّك المتضمِّنة لإمهالهم وتأخيرهم وضربِ الأجل المسمَّى؛ فالأجل المسمَّى ونفوذُ كلمة الله هو الذي أخَّر عنهم العقوبة إلى إبَّانِ وقتها، ولعلَّهم يراجعون أمر الله فيتوب عليهم ويرفع عنهم العقوبة إذا لم تحقَّ عليهم الكلمة.