فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَ مِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَ اَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰی ﴿۱۳۰﴾
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کر اور دن کے کناروں میں، تاکہ تو خوش ہو جائے۔
En
پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ
En
پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 130) ➊ { فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ:} یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دینا طے فرما دیا ہے تو اب خواہ وہ کتنی تکلیف دہ باتیں کہیں، ساحرکہیں یا شاعر، کاہن کہیں یا مجنون، مذاق اڑائیں یا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ باتیں کہیں، آپ کے پاس صبر اور اللہ سے فریاد کے سوا چارہ نہیں، کیونکہ ہر مصیبت میں دو ہی چیزیں مددگار ثابت ہوتی ہیں، ایک صبر اور دوسری اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید، جس کی جامع صورت نماز ہے، اس لیے دوسری جگہ فرمایا: «{ وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ }» [البقرۃ: ۱۵] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“
➋ {وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:} اس کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر مراد نماز ہے، جیسا کہ جز بول کر کل مراد لیا جاتا ہے، رکعت یا سجدہ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے، اسی طرح تسبیح و حمد بول کر پوری نماز مراد لی ہے، کیونکہ رکوع اور سجدہ کی طرح تسبیح و حمد بھی نماز کا جز ہے۔ دلیل اس کی جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا: [إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا لَا تُضَامُّوْنَ فِيْ رُؤْيَتِهٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» ] [قٓ: ۳۹] [بخاري، التفسیر، باب قولہ «وسبح بحمد ربک…» :۴۸۵۱]”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اسے دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی بھیڑ پیش نہیں آئے گی۔ تو اگر تم یہ کر سکو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی ادائیگی میں کوئی تم پر غالب نہ آئے (رکاوٹ نہ بنے) تو ایسا کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» سورۂ قٓ کی اس آیت اور زیر تفسیر آیت کے الفاظ ایک ہیں، اس لیے یہاں بھی {” وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “} سے مراد نماز ہی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، ان کے اوقات کے اول و آخر کی تعیین، ان کی رکعات، ان کے ادا کرنے کا طریقہ سب کچھ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حدیث کے انکار کا مطلب درحقیقت قرآن کا انکار ہے۔ صرف قرآن مجید سے ان میں سے کسی بات پر عمل ممکن نہیں، بلکہ نماز کے علاوہ زکوٰۃ، صیام، حج غرض کسی بھی حکم پر پوری طرح عمل ممکن نہیں۔ اس لیے کسی بھی مسلمان کو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ قرآن مجید نے بھی انھی پانچ نمازوں کو فرض قرار دیا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات میں فرض بتایا ہے اور اپنے قول و عمل سے ان کا نمونہ پیش فرمایا ہے۔ اس لیے سلف صالحین نے ایسی تمام آیات کی تفسیر، جن میں نماز کے اوقات کی طرف اشارہ ہے، حدیث کو مدنظر رکھ کر ہی کی ہے۔
اس آیت سے پانچ نمازوں کا حکم کس طرح ثابت ہوتا ہے؟ اس بارے میں مفسرین کا بیان مختلف ہے۔ مجھے بقاعی رحمہ اللہ کی تفسیر بہتر معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ “} سے مراد فجر کی نماز ہے۔ {” قَبْلَ الْغُرُوْبِ “} سے مراد ظہر اور عصر کی نماز ہے۔ {” وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ “} سے مراد مغرب اور عشاء ہے اور {” وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ “} (دن کے کناروں) سے مراد فجر اور عصر ہے، کیونکہ فجر دن کے پہلے کنارے میں ہے اور عصر دن کے آخری کنارے میں، رہی مغرب تو وہ رات میں شامل ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں (فجر اور عصر) کا ذکر {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا “} میں ہو چکا ہے، اس تفسیر کے مطابق ان کا ذکر دوبارہ لازم آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کی مزید تاکید کے لیے ان کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ }» [البقرۃ: ۲۳۸] (سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو) میں ”صلاۃ وسطیٰ “ کا ذکر اس کی فضیلت و اہمیت کے پیش نظر دوبارہ کیا گیا ہے۔ فجر او رعصر کے فضائل کے پیش نظر ان کی مزید تاکید کے لیے انھیں دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ حدیث کے مطابق ان دونوں نمازوں میں رات اور دن کے فرشتے شامل ہوتے ہیں اور جیسا کہ اوپر گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے حصول کے لیے ان دونوں نمازوں کا خاص دخل ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیں سورۂ بنی اسرائیل (۷۸)۔
➌ { لَعَلَّكَ تَرْضٰى:} یہ اشارہ ہے اس طرف کہ صبر اور نماز کی برکت سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۹) سورۂ ضحی میں فرمایا: «{ وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى }» [الضحٰی: ۵]”اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہو جائے گا۔ “ حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو بھی راضی کیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ، فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَی يَا رَبِّ! فَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا] [بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ]”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا، اے اہل جنت! وہ کہیں گے، بار بار تیری جناب میں حاضر ہیں اے ہمارے رب! اور بار بار حاضر ہیں! تو وہ فرمائے گا، کیا تم راضی (خوش) ہو گئے؟ وہ کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم خوش نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا، کیا میں تمھیں اس سے بھی افضل چیز عطا کروں؟ وہ کہیں گے، اے رب! اور اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا، میں تمھیں اپنی رضا عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی تُرِيْدُوْنَ شَيْئًا أَزِيْدُكُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوْهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوْا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّهِمْ] [مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین…: ۱۸۱، عن صہیب رضی اللہ عنہ] ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تم کوئی چیز چاہتے ہو کہ میں تمھیں مزید دوں؟“ تو وہ کہیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی؟“ فرمایا: ”تو اس وقت اللہ حجاب اٹھا دے گا، تو انھیں کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہو گی جو انھیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“
➋ {وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:} اس کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر مراد نماز ہے، جیسا کہ جز بول کر کل مراد لیا جاتا ہے، رکعت یا سجدہ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے، اسی طرح تسبیح و حمد بول کر پوری نماز مراد لی ہے، کیونکہ رکوع اور سجدہ کی طرح تسبیح و حمد بھی نماز کا جز ہے۔ دلیل اس کی جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا: [إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا لَا تُضَامُّوْنَ فِيْ رُؤْيَتِهٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» ] [قٓ: ۳۹] [بخاري، التفسیر، باب قولہ «وسبح بحمد ربک…» :۴۸۵۱]”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اسے دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی بھیڑ پیش نہیں آئے گی۔ تو اگر تم یہ کر سکو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی ادائیگی میں کوئی تم پر غالب نہ آئے (رکاوٹ نہ بنے) تو ایسا کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» سورۂ قٓ کی اس آیت اور زیر تفسیر آیت کے الفاظ ایک ہیں، اس لیے یہاں بھی {” وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “} سے مراد نماز ہی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، ان کے اوقات کے اول و آخر کی تعیین، ان کی رکعات، ان کے ادا کرنے کا طریقہ سب کچھ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حدیث کے انکار کا مطلب درحقیقت قرآن کا انکار ہے۔ صرف قرآن مجید سے ان میں سے کسی بات پر عمل ممکن نہیں، بلکہ نماز کے علاوہ زکوٰۃ، صیام، حج غرض کسی بھی حکم پر پوری طرح عمل ممکن نہیں۔ اس لیے کسی بھی مسلمان کو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ قرآن مجید نے بھی انھی پانچ نمازوں کو فرض قرار دیا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات میں فرض بتایا ہے اور اپنے قول و عمل سے ان کا نمونہ پیش فرمایا ہے۔ اس لیے سلف صالحین نے ایسی تمام آیات کی تفسیر، جن میں نماز کے اوقات کی طرف اشارہ ہے، حدیث کو مدنظر رکھ کر ہی کی ہے۔
اس آیت سے پانچ نمازوں کا حکم کس طرح ثابت ہوتا ہے؟ اس بارے میں مفسرین کا بیان مختلف ہے۔ مجھے بقاعی رحمہ اللہ کی تفسیر بہتر معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ “} سے مراد فجر کی نماز ہے۔ {” قَبْلَ الْغُرُوْبِ “} سے مراد ظہر اور عصر کی نماز ہے۔ {” وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ “} سے مراد مغرب اور عشاء ہے اور {” وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ “} (دن کے کناروں) سے مراد فجر اور عصر ہے، کیونکہ فجر دن کے پہلے کنارے میں ہے اور عصر دن کے آخری کنارے میں، رہی مغرب تو وہ رات میں شامل ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں (فجر اور عصر) کا ذکر {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا “} میں ہو چکا ہے، اس تفسیر کے مطابق ان کا ذکر دوبارہ لازم آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کی مزید تاکید کے لیے ان کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ }» [البقرۃ: ۲۳۸] (سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو) میں ”صلاۃ وسطیٰ “ کا ذکر اس کی فضیلت و اہمیت کے پیش نظر دوبارہ کیا گیا ہے۔ فجر او رعصر کے فضائل کے پیش نظر ان کی مزید تاکید کے لیے انھیں دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ حدیث کے مطابق ان دونوں نمازوں میں رات اور دن کے فرشتے شامل ہوتے ہیں اور جیسا کہ اوپر گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے حصول کے لیے ان دونوں نمازوں کا خاص دخل ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیں سورۂ بنی اسرائیل (۷۸)۔
➌ { لَعَلَّكَ تَرْضٰى:} یہ اشارہ ہے اس طرف کہ صبر اور نماز کی برکت سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۹) سورۂ ضحی میں فرمایا: «{ وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى }» [الضحٰی: ۵]”اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہو جائے گا۔ “ حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو بھی راضی کیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ، فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَی يَا رَبِّ! فَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا] [بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ]”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا، اے اہل جنت! وہ کہیں گے، بار بار تیری جناب میں حاضر ہیں اے ہمارے رب! اور بار بار حاضر ہیں! تو وہ فرمائے گا، کیا تم راضی (خوش) ہو گئے؟ وہ کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم خوش نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا، کیا میں تمھیں اس سے بھی افضل چیز عطا کروں؟ وہ کہیں گے، اے رب! اور اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا، میں تمھیں اپنی رضا عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی تُرِيْدُوْنَ شَيْئًا أَزِيْدُكُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوْهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوْا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّهِمْ] [مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین…: ۱۸۱، عن صہیب رضی اللہ عنہ] ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تم کوئی چیز چاہتے ہو کہ میں تمھیں مزید دوں؟“ تو وہ کہیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی؟“ فرمایا: ”تو اس وقت اللہ حجاب اٹھا دے گا، تو انھیں کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہو گی جو انھیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
130۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک تسبیح سے مراد نماز ہے اور وہ اسے پانچ نمازوں سے مراد لیتے ہیں۔ طلوع شمس سے قبل فجر، ٖغروب سے قبل، عصر رات کی گھڑیوں سے مغرب و عشاء اور اطراف النھار سے ظہر کی نماز مراد ہے کیونکہ ظہر کا وقت، یہ نماز اول کا طرف آخر اور نہار آخر کا طرف اول ہے۔ اور بعض کے نزدیک ان اوقات میں ایسے ہی اللہ کی تسبیح و توحید ہے، جس میں نماز، تلاوت، ذکر اذکار، دعا مناجات اور نوافل سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان مشرکین کی تکذیب سے بددل نہ ہوں۔ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، ان کی گرفت فرما لے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
130۔ لہٰذا جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور اپنے پروردگار کو حمد [94] کے ساتھ تسبیح کیجئے، سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں تسبیح کیجئے اور دن کے کناروں پر [95] بھی، اسی طرح امید ہے کہ آپ [96] خوش رہیں گے۔
[94] صبر اور نماز کے فوائد:۔
مصائب و مشکلات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کے لئے قرآن نے متعدد مقامات پر دو باتوں پر زور دیا ہے۔ ایک صبر اور دوسرے نماز۔ صبر سے مراد احکام الٰہی کو پورے استقلال کے ساتھ بجا لاتے رہنا بھی ہے۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی۔ اور نماز سے بندے کا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے اور وہ اللہ پر توکل کرنا سیکھتا ہے اور جوں جوں یہ تعلق بڑھتا جاتا ہے۔ اللہ پر توکل میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور اسی توکل سے مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت و جرأت پیدا ہوتی ہے۔
[95] پانچوں نمازوں کے اوقات:۔
حمد کے ساتھ تسبیح اور محض تسبیح دونوں سے یہاں مراد نماز ہے کہ یہ عرب میں عام دستور ہے کہ کسی چیز کا کوئی خاص جزء بول کر اس سے مراد کل لیا جاتا ہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔ سورج کے طلوع سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب سے پہلے کی نماز عصر ہے۔ رات کے کچھ اوقات سے مراد نماز عشاء ہے اور نماز تہجد بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرض تھی لیکن دوسروں کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اور ان کے کنارے تین ہی ہو سکتے ہیں، صبح، شام اور زوال آفتاب، صبح سے مراد فجر کی نماز ہے جس کا ذکر پہلے ہی آچکا، شام سے مراد نماز مغرب اور زوال آفتاب سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ گویا اس ایک آیت سے ہی پانچوں فرض نمازیں اور ان کے اوقات ثابت ہو جاتے ہیں اور اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی وقت بھی اللہ کی یاد اور تسبیح و تہلیل سے غافل نہ رہنا چاہئے۔
[96] یعنی صبر اور نمازوں کے قیام کے نتائج اتنے شاندار حاصل ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر خوش ہو جائیں گے اور فی الواقع ان کے ایسے شاندار نتائج نکلے جو سب دنیا نے دیکھ لئے اور ایسے نتائج کا ذکر قرآن کی اور بھی بہت سی آیات میں مذکور ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دنیا کے بعد آخرت کو اتنا بلند مقام عطا ہو گا جس پر آپ خوش ہو جائیں گے۔ جیسے آپ کا قیامت کے دن انبیاء سمیت سب لوگوں کے لئے اللہ کے حضور سفارش کرنا اور آپ کو مقام محمود عطا ہونا وغیرہ۔
[96] یعنی صبر اور نمازوں کے قیام کے نتائج اتنے شاندار حاصل ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر خوش ہو جائیں گے اور فی الواقع ان کے ایسے شاندار نتائج نکلے جو سب دنیا نے دیکھ لئے اور ایسے نتائج کا ذکر قرآن کی اور بھی بہت سی آیات میں مذکور ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دنیا کے بعد آخرت کو اتنا بلند مقام عطا ہو گا جس پر آپ خوش ہو جائیں گے۔ جیسے آپ کا قیامت کے دن انبیاء سمیت سب لوگوں کے لئے اللہ کے حضور سفارش کرنا اور آپ کو مقام محمود عطا ہونا وغیرہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔