تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 13

وَ اَنَا اخۡتَرۡتُکَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا یُوۡحٰی ﴿۱۳﴾
اور میں نے تجھے چن لیا ہے، پس غور سے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ En
اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو
En
اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَنَا اخْتَرْتُكَ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰؔى یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنا اخترتُك}؛ أي: تخيَّرْتك واصطفيتُك من الناس، وهذه أكبر نعمةٍ ومنَّة أنعم الّله بها عليه تقتضي من الشُّكر ما يَليق بها، ولهذا قال: {فاستمعْ لما يُوحى}؛ أي: ألق سمعك للذي أوحي إليك؛ فإنَّه حقيقٌ بذلك؛ لأنَّه أصل الدين ومبدؤه وعماد الدعوة الإسلامية.