(آیت 13){ وَاَنَااخْتَرْتُكَفَاسْتَمِعْلِمَايُوْحٰى:} نبوت کے حصول میں کسی کی جد و جہد یا محنت کا کچھ دخل نہیں، یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۵) قادیانی دجال نے اسے مجاہدہ و کسب سے حاصل ہو سکنے کا دعویٰ کیا، چنانچہ اس کی زندگی ہی میں اس کے پیروکاروں میں سے تیرہ آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ دیکھیے قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یعنی نبوت و رسالت اور ہم کلامی کے لئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ اور میں نے تمہیں (نبوت کے لئے) چن لیا ہے لہذا جو وحی کی جاتی ہے اسے غور سے [10] سنو
[10] موسیٰؑ کا اتفاقا طوی وادی میں پہنچنا:۔
جب سیدنا موسیٰؑ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک درخت میں آگ بھڑک رہی ہے۔ پاس نہ کوئی آدم ہے نہ آدم زاد۔ آگ جوں جوں بھڑکتی ہے درخت مزید سرسبز ہو جاتا ہے۔ اس عجیب نظارہ کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس میں ایک آواز آئی کہ ”اے موسیٰ! میں تمہارا پروردگار تم سے ہم کلام ہو رہا ہوں۔ تم اس وقت طویٰ کے مقدس میدان میں پہنچ چکے ہو۔ لہٰذا اپنے جوتے اتار لو۔“ اس آواز کی کیفیت یہ تھی کہ یہ معلوم ہی نہ ہو سکتا تھا کہ کس سمت سے آواز آرہی ہے۔ دائیں سے آرہی ہے یا بائیں سے آگے سے یا پیچھے سے، اوپر سے یا نیچے سے۔ لہٰذاموسیٰؑ پس آواز کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش بن گئے۔ اس آواز نے پہلے جملہ میں اپنا تعارف کرایا۔ دوسرے جملے میں یہ بتلایا کہ تم جو راہ بھول چکے تھے تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے اس وقت تم طویٰ کے صاف ستھرے میدان میں کھڑے ہو اور یہاں پہنچنے کے لئے ہی تم راہ بھولے تھے۔ تیسرے جملہ میں یہ ہدایت دی کہ اپنے جوتے اتار لو۔ ممکن ہے کہ آپ کے جوتوں کو راستہ میں کچھ گندگی اور آلائش لگ گئی ہو۔ ورنہ جوتے اگر نئے یا صاف ستھرے ہوں تو جوتوں سمیت مسجد تک جانا تو درکنار نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔ تاہم ادب کا تقاضا یہی ہے کہ کسی مقدس مقام میں داخل ہوتے وقت اتار لئے جائیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَنَااخْتَرْتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسْتَمِعْلِمَایُوْحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنا اخترتُك}؛ أي: تخيَّرْتك واصطفيتُك من الناس، وهذه أكبر نعمةٍ ومنَّة أنعم الّله بها عليه تقتضي من الشُّكر ما يَليق بها، ولهذا قال: {فاستمعْ لما يُوحى}؛ أي: ألق سمعك للذي أوحي إليك؛ فإنَّه حقيقٌ بذلك؛ لأنَّه أصل الدين ومبدؤه وعماد الدعوة الإسلامية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔