تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنِّیْۤاَنَارَبُّكَفَاخْ٘لَ٘عْنَعْلَیْكَ١ۚاِنَّكَبِالْوَادِالْمُقَدَّسِطُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کا رب ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إني أنا ربُّك فاخْلَعْ نعلَيْكَ إنَّك بالواد المقدَّس طُوىً}: أخبره أنَّه ربُّه، وأمره أن يستعدَّ ويتهيَّأ لمناجاته ويهتمَّ لذلك، ويُلْقيَ نعليه، لأنَّه بالوادي المقدَّس المطهَّر المعظَّم، ولو لم يكن من تقديسِهِ إلاَّ أنَّه اختاره لمناجاتِهِ كليمَه موسى؛ لكفى. وقد قال كثيرٌ من المفسِّرين: إنَّ الله أمره أن يُلْقِيَ نعليه لأنهما من جلد حمارٍ ؛ فالله أعلم بذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔