ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 129

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔ En
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
En
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 129) ➊ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ …:} اصل میں { وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّي لَكَانَ ({الْعَذَابُ}) لِزَامًا} ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے { وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى } کو مؤخر کر دیا گیا۔
➋ { لِزَامًا } بروزن {قِتَالٌ} باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔
➌ { لَكَانَ } میں ضمیر {هُوَ} اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون {الْعَذَابُ} (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔
➍ جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہو چکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہو چکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِيْ كِتَابِهٖ وَ هُوَ يَكْتُبُ عَلٰی نَفْسِهٖ وَهُوَ وَضْعٌ عِنْدَهٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ: «ویحذرکم اللہ نفسہ» : ۷۴۰۴] جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اور نساء (۱۶۵) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بے شمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏{وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠ ‏‏‏‏ [الأعراف: ۳۴] ا ور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہو جاتا۔