تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 127

وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ اَسۡرَفَ وَ لَمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَ اَبۡقٰی ﴿۱۲۷﴾
اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ En
اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے
En
ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَؔكَذٰلِكَ یعنی یہ جزا ﴿ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبْقٰى اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذلك}؛ أي: هذا الجزاء نجزيه {مَنْ أسرف}: بأن تعدَّى الحدود وارتكب المحارم وجاوز ما أُذِنَ له، {ولم يؤمن بآيات ربِّه}: الدالَّة على جميع مطالب الإيمان دلالةً واضحةً صريحةً؛ فالله لم يَظْلِمْه ولم يَضَع العقوبة في غير محلِّها، وإنَّما السبب إسرافُه وعدم إيمانه. {ولعذابُ الآخرةِ أشدُّ}: من عذاب الدُّنيا أضعافاً مضاعفةً، {وأبقى}: لكونِهِ لا ينقطعُ؛ بخلاف عذاب الدُّنيا؛ فإنَّه منقطع؛ فالواجب الخوف والحذر من عذابِ الآخرة.