تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 126

قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾
وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو توُ انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔ En
خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے
En
(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُ٘نْ٘سٰى اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال كذلك أتَتْكَ آياتُنا فنسيتَها}: بإعراضِكَ عنها، {وكذلك اليومَ تُنسى}؛ أي: تُتْرَكُ في العذاب؛ فأجيب بأنَّ هذا هو عينُ عملك، والجزاء من جنس العمل؛ فكما عَميتَ عن ذِكْر ربِّك، وعشيتَ عنه، ونسيتَه ونسيت حظَّك منه؛ أعمى اللهُ بَصَرَكَ في الآخرة، فحُشِرْتَ إلى النار أعمى أصمَّ أبكم، وأعرضَ عنك، ونَسِيَكَ في العذاب.