اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
En
اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے
ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے
En
(آیت 127) ➊ {وَكَذٰلِكَنَجْزِيْ …:} یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے جرم کے موافق جزا دی جائے گی۔ ➋ { مَنْاَسْرَفَ …:} حد سے گزرنے والا سب سے بڑھ کر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے، پھر وہ ہے جو عبودیت (بندگی) کے مقام سے بڑھ کر اتنا بڑا (متکبر) بنے کہ اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر اپنے خالق و مالک کی کوئی بات نہ مانے۔ ➌ {وَلَعَذَابُالْاٰخِرَةِ …:} یعنی اگرچہ دنیا اور قبر کی تنگی والی زندگی اور محشر میں اندھا کرکے اٹھایا جانا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا فراموش کر دینا، ان میں سے ہر ایک بہت بڑا عذاب ہے، مگر آخرت یعنی سب سے آخری مرحلے کا عذاب (جہنم) سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ سخت اتنا کہ اس کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا تیز اور باقی رہنے والا ایسا کہ جہنمی اس سے خلاصی کے لیے موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ذبح کی جا چکی ہو گی، اسی لیے فرمایا: «{ لَايَمُوْتُفِيْهَاوَلَايَحْيٰى }»[طٰہٰ: ۷۴]”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔“ جہنم سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
127۔ اور جو شخص بھی حد سے بڑھ جائے اور اپنے پروردگار کی آیات پر ایمان لائے، ہم اسے اسی طرح سزا دیں گے اور آخرت کا عذاب تو شدید اور باقی رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کی سزائیں ٭٭
جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا و آخرت کے عذابوں میں مبتلاکرتے ہیں۔ خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ { ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔ } [صحیح مسلم:1493]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجْزِیْمَنْاَسْرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمْیُؤْمِنْۢبِاٰیٰتِرَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُالْاٰخِرَةِاَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبْقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكذلك}؛ أي: هذا الجزاء نجزيه {مَنْ أسرف}: بأن تعدَّى الحدود وارتكب المحارم وجاوز ما أُذِنَ له، {ولم يؤمن بآيات ربِّه}: الدالَّة على جميع مطالب الإيمان دلالةً واضحةً صريحةً؛ فالله لم يَظْلِمْه ولم يَضَع العقوبة في غير محلِّها، وإنَّما السبب إسرافُه وعدم إيمانه. {ولعذابُ الآخرةِ أشدُّ}: من عذاب الدُّنيا أضعافاً مضاعفةً، {وأبقى}: لكونِهِ لا ينقطعُ؛ بخلاف عذاب الدُّنيا؛ فإنَّه منقطع؛ فالواجب الخوف والحذر من عذابِ الآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔