تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا: ﴿ قَالَرَبِّلِمَحَشَرْتَنِیْۤاَعْمٰىوَقَدْكُنْتُبَصِیْرًا ﴾”اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال}: على وجه الذُّلِّ والمراجعة والتألُّم والضجر من هذه الحالة: {ربِّ لمَ حشرتَني أعمى وقد كنتُ}: في دار الدُّنيا {بصيراً}: فما الذي صيَّرني إلى هذه الحالة البشعة؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔