تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا ﴿۱۲۵﴾
کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔ En
وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا
En
وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا: ﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَقَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال}: على وجه الذُّلِّ والمراجعة والتألُّم والضجر من هذه الحالة: {ربِّ لمَ حشرتَني أعمى وقد كنتُ}: في دار الدُّنيا {بصيراً}: فما الذي صيَّرني إلى هذه الحالة البشعة؟