تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 11

فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ یٰمُوۡسٰی ﴿ؕ۱۱﴾
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی اے موسیٰ! En
جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ
En
جب وه وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔ جب موسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَ٘رَّبْنٰهُ نَؔجِیًّا (مریم:19؍52) ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا أتاها}؛ أي: النار التي آنسها من بعيدٍ، وكانت في الحقيقة نوراً، وهي نارٌ تحرق وتشرق، ويدلُّ على ذلك قوله - صلى الله عليه وسلم -: «حجابُهُ النورُ أو النارُ، لو كَشَفَهُ؛ لأحرقت سُبُحات وجهه ما انتهى إليه بصره ». فلما وصل إليها؛ نودِيَ منها؛ أي: ناداه الله؛ كما قال: {وناديناه من جانب الطور الأيمن وقرَّبْناه نَجِيًّا}.