تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 116

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی ﴿۱۱۶﴾
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے انکار کیا۔ En
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا
En
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم علیہ السلام کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا: ﴿اَنَا خَیْرٌ مِّؔنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ (الاعراف:7؍12) میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لما أكمل خلقَ آدم بيدِهِ، وعلَّمه الأسماء، وفضَّله وكرَّمه؛ أمر الملائكة بالسجود له إكراماً وتعظيماً وإجلالاً، فبادروا بالسُّجود ممتثلين، وكان بينهم إبليسُ، فاستكبر عن أمرِ ربِّه، وامتنع من السجود لآدم، وقال: {أنا خيرٌ منه خَلَقْتَني من نارٍ وخَلَقْتَه من طينٍ}.