تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 117

فَقُلۡنَا یٰۤـاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَ لِزَوۡجِکَ فَلَا یُخۡرِجَنَّکُمَا مِنَ الۡجَنَّۃِ فَتَشۡقٰی ﴿۱۱۷﴾
تو ہم نے کہا اے آدم! بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے گا۔ En
ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ
En
تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَ٘تَ٘شْ٘قٰى اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔
﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَلَا تَعْرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَلَا تَضْحٰؔى یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا: ﴿وَلَا تَ٘قْ٘رَبَ٘ا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُ٘وْ٘نَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ:2؍35) تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتبينتْ حينئذٍ عداوتُه البليغةُ لآدم وزوجِهِ لما كان عدوًّا لله، وظهر من حسده ما كان سبب العداوة، فحذَّر الله آدم وزوجه منه، وقال: لا {يُخْرِجَنَّكُما من الجنَّةِ فَتَشْقى}: إذا أخرِجْتَ منها؛ فإنَّ لك فيها الرزق الهني والراحة التامة، {إنَّ لَكَ ألاَّ تَجُوعَ فِيهَا ولا تَعْرَى. وأنَّك لا تَظمَأُ فِيهَا ولا تَضْحَى}؛ أي: تصيبُك الشمس بحرِّها، فضَمِنَ له استمرار الطعام والشراب والكسوة والماء وعدم التعب والنَّصَب، ولكنَّه نهاه عن أكل شجرةٍ معيَّنة، فقال: {ولا تَقْرَبا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين}.