تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 115

وَ لَقَدۡ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِیَ وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا ﴿۱۱۵﴾٪
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔ En
اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا
En
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہم نے آدم علیہ السلام کو وصیت کی، اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لیے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم علیہ السلام کی طرح ہو گئی، آدم علیہ السلام سے بھول ہو گئی، اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہو گئی، آدم علیہ السلام سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم علیہ السلام اپنے عزم پر قائم نہ رہ سکا اسی طرح اس کی اولاد اپنے عزم کو توڑ بیٹھتی ہے، آدم علیہ السلام نے اپنی خطا کا اعتراف اور اقرار کر کے فوراً توبہ کر لی اور اس کی خطا کو بخش دیا گیا، جو کوئی اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس پر ظلم نہیں کیا جاتا، پھر اس اجمال کی تفیصل بیان کرتے ہوئے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولقد وصَّينا آدم وأمرناه وعَهِدْنا إليه عهداً ليقوم به، فالتزَمَه وأذعن له وانقادَ وعزمَ على القيام به، ومع ذلك نَسِيَ ما أُمِرَ به، وانتقضت عزيمتُه المحكمة، فجرى عليه ما جرى، فصار عبرةً لذرِّيَّته، وصارت طبائعُهم مثل طبيعة آدم؛ نسي فنسيت ذُرِّيَّتُه، وخَطِئ فخطئوا، ولم يثبت على العزم المؤكَّد وهم كذلك، وبادر بالتوبة من خطيئته، وأقرَّ بها، واعترفَ فغُفِرَتْ له، ومن يشابِهْ أباه فما ظلم.