تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 99

وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ En
اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں
En
اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدْ اَ٘نْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰؔتٍ اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلب گار ہو۔ اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {ولقد أنزلنا إليك آيات بينات}؛ تحصل بها الهداية لمن استهدى وإقامة الحجة على من عاند، وهي في الوضوح والدلالة على الحق قد بلغت مبلغاً عظيماً، ووصلت إلى حالة لا يمتنع من قبولها إلا من فسق عن أمر الله وخرج عن طاعة الله، واستكبر غاية التكبر.