تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 69

قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾
انھوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، وہ ہمارے لیے واضح کرے اس کا رنگ کیا ہے؟ کہا بے شک وہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ وہ گائے زرد رنگ کی ہے، اس کا رنگ خوب گہرا ہے، دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ En
انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو
En
وه پھر کہنے لگے کہ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ فرمایا وه کہتا ہے کہ وه گائے زرد رنگ کی ہے، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے واﻻ اس کا رنگ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر کہ وہ اس کا رنگ بیان کرے۔ موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے، وہ گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا یعنی خالص زرد رنگ۔ ﴿ تَ٘سُرُّ النّٰ٘ظِرِیْنَ یعنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا ادع لنا ربك يبين لنا ما لونها قال إنه يقول إنها بقرة صفراء فاقع لونها}؛ أي: شديد، {تسر الناظرين}؛ من حسنها.