انھوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر،وہ ہمارے لیے واضح کرے وہ (گائے) کیا ہے؟ بے شک گائیں ہم پر ایک دوسری کے مشابہ ہوگئی ہیں اور یقینا ہم اگر اللہ نے چاہا تو مقصد کو پہنچنے ہی والے ہیں۔
En
انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی
وه کہنے لگے کہ اپنے رب سے اور دعا کیجیئے کہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتلائے، اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُواادْعُلَنَارَبَّكَیُبَیِّنْلَّنَامَاهِیَ١ۙاِنَّالْ٘بَقَرَتَشٰبَهَعَلَیْنَا﴾”انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔“ یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کونسی گائے چاہتے ہیں ﴿ وَاِنَّـاۤ٘اِنْشَآءَاللّٰهُلَمُهْتَدُوْنَ﴾”اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا ادع لنا ربك يبين لنا ما هي إن البقر تشابه علينا}؛ فلم نهتد إلى ما تريد، {وإنا إن شاء الله لمهتدون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔