انھوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، وہ ہمارے لیے واضح کرے وہ (گائے) کیا ہے؟ کہا بے شک وہ فرماتا ہے بے شک وہ ایسی گائے ہے جو نہ بوڑھی ہے اور نہ بچھڑی، اس کے درمیان جوان عمر کی ہے، تو کرو جو تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔
En
انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو
انہوں نے کہا اے موسیٰ! دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت بیان کردے، آپ نے فرمایا سنو! وه گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کہنے لگے ﴿ ادْعُلَنَارَبَّكَیُبَیِّنْلَّنَامَاهِیَ﴾”اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟“ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے ﴿ قَالَاِنَّهٗیَقُوْلُاِنَّهَابَقَرَةٌلَّافَارِضٌ﴾”موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہ ہو“﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَابِكْرٌ﴾ یعنی نہ ہی زیادہ چھوٹی ﴿ عَوَانٌۢبَیْنَذٰلِكَؕفَافْعَلُوْامَاتُ٘ـؤْمَرُوْنَ﴾ ان مذکورہ دو عمروں کے درمیان متوسط عمر کی ہو۔ پس وہ کام کرو جس کا تمھیں حکم دیا جاتا ہے اور تشدد اور تکلف کو چھوڑ دو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ادع لنا ربك يبين لنا ما هي}؛ أي ما سنُّها {قال إنه يقول إنها بقرة لا فارض}؛ أي: كبيرة، {ولا بكر}؛ أي: صغيرة، {عوان بين ذلك فافعلوا ما تؤمرون}؛ واتركوا التشديد والتعنت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔